June 22nd, 2018 / 10:02 PM

ہوتے ہیں بدن کیسے گلستاں، نہیں دیکھا

منظر وہ ابھی تم نے مری جاں! نہیں دیکھا

 

ہم صبح ومساجان بہ لب حبسِ چمن سے

اور ہم پہ عتاب اُن کو کہ زنداں نہیں دیکھا

 

جس شاخ کو تھی راس نہ جنبش بھی ہَوا کی

پھل جب سے لُٹے پھر اُسے لرزاں نہیں دیکھا

 

چھلکا ہے جو آنکھوں سے شبِ جور میں اب کے

ایسا تو کبھی رنجِ فراواں نہیں دیکھا

 

مدّاح وہی اُس کے سکوں کا ہے کہ جس نے

مہتاب سرِغرب پر افشاں نہیں دیکھا

 

جب تک ہے تصّرف میں فضا اُس کے بدن کی

ہم کیوں یہ کہیں تختِ سلیماں نہیں دیکھا

 

دیوار کے کانوں سے ڈرا لگتا ہے شاید

ماجدؔ کو کئی دن سے غزل خواں نہیں دیکھا