The Creeps

March 12th, 2018 / 04:32 PM

 

 جب ڈاؤ میں تھا تب ایک کتاب کے بارے میں پڑھا تھا کوئی پروفیسر صاحب ہیں جرمنی میں رہتے ہیں بچپن سے ان کو تصویر بنانے کا شوق تھا لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر زندگی نے ان کو یہ کام کرنے نہیں دیا  مگر پچھلے کچھ سال سے ان کے پاس کچھ مریض  آئے یہ مریض ان پروفیسر صاحب کو مختلف فوبیا کے بارے میں بتاتے وہ بچپن سے جن سے دوچار ہیں  پروفیسر صاحب نے ایک تصویریں بنانے والے سے رابطہ کیا اور اس کو اس صورتحال سے آگاہ کیا شروع میں تھوڑی اور بعد میں بہت سی ایسی تصویریں وجود میں آئی جو ان لوگوں کے فوبیا کو بیان کرتی ہیں  آئیڈیا تو بہت بے مثال تھا اس تصویریں بنانے والے کا ایک ٹمبلر اکاونٹ بھی ہے جہاں پر وہ بہت عرصے سے ان تصویروں کو شائع کرتا آ رہا ہے پہلی بار میں نے بھی اس کو ٹمبلر پر ہی دریافت کیا ایک روز مجھے پتہ چلا کہ اس نے بہت ساری اچھی تصویروں کو جمع کر کے ایک کتاب بناڈالی بدقسمتی سے وہ کتاب پاکستان میں میسر نہیں تھی تو مجھے وہ کتاب درآمد کرنی پڑی لیکن اس کے لیے چھ ہفتے لگے اب میں ٹھہرا بے صبرا تو میں نے آئی ٹیونز سے وہ کتاب ڈاؤنلوڈ کرلی اس بات کو اب چار برس گزر چکے ہیں مجھے پھر سے پتہ چلا کہ اس نے اپنی کتاب کا دوسراحصہ شائع کردیا میں جانتا ہوں کہ مزید چھ ہفتے انتظار میرے بس میں نہیں میں نے وہ کتاب کچھ گھنٹے پہلے وہ کتاب ڈاؤنلوڈ کرلی اور اب وہ کتاب ختم کرنے کا انتظار ہے لیکن اس پاس شور بہت ہے اور کسی بھی کتاب کو ختم کرنے کے لیے دوچیزیں درکار ہیں ایک خاموشی اور سکون اور دوسرا وہ کتاب خود اچھا ہے جب سے عشق کا روگ ختم ہوا میں 300 کتابیں کھا چکا ہو جن میں سے اڑتالیس 2018 کی ہیں جس کو موقع ملے وہ یہ کتاب ضرور پڑھے کیا پتا کوئی ایسا خوف آپ کے اندر بھی پل رہا ہوں جس سے آپ اب تک نہیں جانتے