March 26th, 2018 / 07:01 PM

رہے گا عقل کے سینے پہ تا ابد یہ داغ 
کہ زندگی نے بھی پایا نہ زندگی کا سراغ 

عجیب طرح گزارا ہے دور تیرہ شبی 
جلا جلا کے بجھائے ہیں میں نے کتنے چراغ 

ہے جینے والوں کی خاطر یہ کیسی مجبوری 
نہ زندگی کا فراغ اور نہ زندگی سے فراغ 

یہ کچھ ہمارے ہی قلب تپیدہ کو ہے خبر 
فروغ نور سے کیا کیا نہ جل بجھے ہیں چراغ 

ہے روشنی کے لئے روشنی پیام اجل 
سحر قریب ہے اور جھلملا رہے ہیں چراغ 

مجھے بتا کہ ہے اس مے میں کیف مے کتنا 
میں جانتا ہوں کہ خالی نہیں کسی کا ایاغ 

کسی طرح سہی بدلے تو رسم پارینہ 
اگائے جاؤ بیاباں اجاڑتے چلو باغ 

دکھا رہا ہوں میں دنیا کو دل کا آئینہ 
بہ ایں یقیں کہ نہیں ماہتاب بھی بے داغ 

یہ رات محفل آدم پہ ہے گراں حرمتؔ 
بھڑک اٹھے ہیں خود اپنی ہی روشنی سے چراغ 

حرمت الااکرام