March 9th, 2018 / 06:11 PM

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے
زہر غم بادہ چکاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

فکر تپ تپ کے نکھرتی رہے کندن کی طرح 
آگ سینے کی جواں ہو تو غزل ہوتی ہے 

دھیمی دھیمی سی نوا سلسلہ جنبان ابد 
پردۂ جاں میں نہاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

دھڑکنیں صورت الفاظ بکھرتی جائیں 
دل معانی کی زباں ہو تو غزل ہوتی ہے 

آنچ مٹی کے کھلونوں کی طرح ملتی جائے 
ذہن خوابوں سے تپاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

روزن ماہ سے پچھلے پہر اک شوخ لقا 
جانب دل نگراں ہو تو غزل ہوتی ہے 

روح شب اپنی اداؤں کی تب و تاب لیے 
خلوت آرائے بیاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

ایک سیال کسک جادہ کشائے تخلیق 
فن کی نبضوں میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے 

تجربے درد کی شبنم میں نہائیں حرمتؔ 
گل فشاں شعلۂ جاں ہو تو غزل ہوتی ہے
حرمت الااکرام