ناصر کاظمی کی نظم

اولیں چاند نے کیا بات سمجھائی مجھ کو

یاد آئی تیری انگشت حنائی مجھ کو

...

دیکھتے دیکھتے تاروں کا سفر ختم ہوا

سو گیا چاند مگر نیند نہ آئی مجھ کو

...

انہی آنکھوں نے دکھائے کئی بھر پور جمال

انہی آنکھوں نے شب ہجر دکھائی مجھ کو

...

ساۓ کی طرح مرے ساتھ رہے رنج و الم

گردش وقت کہیں راس نہ آئی مجھ کو

...

دھوپ ادھر ڈھلتی تھی دل ڈوبا جاتا تھا ادھر

آج تک یاد ہے وہ شام جدائی مجھ کو

...

شہر لاہور تری رونقیں دائم آباد

تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو