کبھی عشق ہو تو پتہ چلے / by Aamir Bilal

I met a girl.
She didn't believe in any thing poetic.
Love included.
Still.
I asked her some questions.

''Aamir! I don't believe in luck. I don't believe in magic. I don't believe in charms. I don't believe in love."

At that moment I wished she had believed. I don't know why but that sudden storm was perhaps hormonal. Reminded me of a poem.

 

کہ بساط جان پہ عذاب اترتے ہیں کس طرح
شب و روز دل پہ عتاب اترتے ہیں کس طرح

یہ جو لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پس دوستاں ... تو یہ کون ہیں
یہ جو روگ سے ہیں چھپے ہوئے پس جسم و جان تو... یہ کس لیے

یہ جو کان ہیں میرے آہٹوں پہ لگے ہوئے... تو یہ کیوں بھلا
یہ جو ہونٹ ہیں صف دوستاں میں سلے ہوئے...تو یہ کس لیے

یہ جو اضطراب رچا ہوا ہے وجود میں... تو یہ کیوں بھلا
یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہے جمود میں... تو یہ کس لیے

یہ جو دل میں درد چھڑا ہوا ہے لطیف سا... تو یہ کب سے ہے
یہ جو پتلیوں میں ہے عکس کوئی خفیف سا... تو یہ کب سے ہے

یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی ہے جمی ہوئی... تو یہ کس لیے
یہ جو دوستوں میں نئی نئی ہے کمی کوئی... تو یہ کیوں بھلا

یہ جو لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں فضول میں... انہیں کیا پتہ... انہیں کیا خبر
کسی راہ کے کسی موڑ پر جو ذرا انہیں... کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے