غزل / by Aamir Bilal

یہ دِل کسی بھی طرح شامِ غم گزار تو دے
پھر اس کے بعد وہ عمروں کا انتظار تو دے

ہوائے موسمِ گُل جانفزا ہے اپنی جگہ
مگر کوئی خبرِ یارِ خوش دیار تو دے

ہمیں بھی ضد ہے کہاں عمر بھر نبھانے کی
مگر وہ ترکِ تعلق کا اختیار تو دے

بجا کہ درد سری ہے یہ زندگی کرنا
مگر یہ بارِ امانت کوئی اُتار تو دے

ترا ہی ذکر کریں بس تجھی کو یاد کریں
یہ فرصتیں بھی کبھی فکرِ روزگار تو دے

ترے کرم بھی مجھے یاد ہیں مگر مرا دل
جو قرض اہلِ زمانہ کے ہیں اُتار تو دے

فلک سے ہم بھی کریں ظلمِ ناروا کے گِلے
پہ سانس لینے کی مہلت ستم شعار تو دے

فرازؔ جاں سے گزرنا تو کوئی بات نہیں
مگر اب اس کی اجازت بھی چشمِ یار تو دے