ایک بلا

عامر کہاں جا رہے ہو؟


باہر دادی.


باہر کہاں؟


پارک تک دادی.


کوئی ضرورت نہیں جانے کی. گھر بیٹھو.


مگر کیوں... ابھی تو بازار بھی کھلے ہیں!


میں نے کہے دیا نا! اب ضد مت کرو.


پر دادی


بیٹا اس وقت رات ہو چکی ہے.


تو؟

تو یہ کہ اس وقت آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور....

اور؟

اور بچوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں.



جب چھوٹا تھا تب دادی یہ سب کہا کرتی تھیں. شام بلخصوص مغرب کے بعد باہر نکلنا تو ایک ناممکن بات تھی. اپنے اس عقیدے کو ثابت کرنے کا ان کے پاس کوئی طریقہ تو نہیں تھا مگر پھر بھی شام کو ان کے سامنے باہر جانا تو سارا بچپن ممکن نہیں رہا. بڑے ہونے کے ساتھ میں دادی کی گرفت سے نکل گیا. اور شام کو باہر جانا اور باہر رہنا ممکن ہو گیا. اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد دادی کی انتقال ہو گیا لیکن اپنے آخری ایام تک انکے عقائد وہی رہے. تب بھی اگر کوئی شام کو باہر جانے لگتا تو اسکو روکتیں اور یہی آسمان سے بلائیں اترنے والی بات کہتیں. مجھے انکی اس بات پر کبھی یقین نہیں رہا. مگر اس گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد جب میرا کالج کھلا تو شام کو میں کچھ سامان لینے گھر سے باہر گیا. شہر کے حالات اچانک خراب ہو گئے. میں فورا گھر کو پلٹا. جب سکون سے گھر پہنچ گیا تو احساس ہوا کہ آج ایک ماہ بعد ایک بلا باہر نکلی تھی.اور اسکے باہر نکلنے سے پورا شہر آفت میں آ گیا. اتنے سال بعد دادی کی بات ثابت ہو گئی. اب یقین آیا کہ بزرگ ٹھیک ہی کہتی تھیں.

٢٠١٥ میں اس بلا کی شادی ہو گی اور اس کے شوہر نے اس بلا کو اب دیکھنے میں بھی ایک بلا بنا دیا ہے. یہ الگ بات ہے کہ اب اس بلا کا صرف وزن ہے کسی کو مارنے کے لئے کافی ہے.