Yellow and Red (Short Dialogue) / by Aamir Bilal

(پہلا منظر)



"سرکار سے ایک التجا ہے"
"آپ اور التجا"
"جی. التجا... اور نہیں تو کیا"
"کیوں؟"
"سرکار کے سامنے کون بولے. کس کی اتنی ہمت. بندہ التجا ہی تو کر سکتا ہے"
"نہیں نہیں نہیں"
"دیکھا. اب تم نا... پھر تم کہو گی کہ میں سیرئیس رہتی ہوں"
"اچھا نا! اب میں نہیں کرتی مذاق."
"ارے میں نے یہ کب کہا. تم نا...بس بہانے ڈھونڈو"
"اوکے جی...حکم کریں"
"حکم نہیں. عرض"
"اچھا جی عرض ہی کر دیں"
"کر دوں؟"
"عدنان ...دیکھا...اب کون سیرئیس نہیں. تم سیرئیس نہیں رہ سکتے؟"
"اچھا اچھا...اب میں سیرئیس ہی رہ کر عرض کر رہا ہوں"
اور اس نے وہ عرض عرض کر ہی ڈالی.




(دوسرا منظر)
"سنیں"
"ہا ہا"
"اچھا یار. اتنا رومینٹک ہو کر کہا. اور تم نے سارا فلو روک دیا"
"کیا ہے. اچھا نا. کہو جیسے کہے رہے تھے."(ہنستے ہوئے)
"نہیں اب نہیں"
"پلیز..."
"اب اتنا پگھل کر کہو گی تو کون نہیں بولے گا."
"نہیں نہیں نہیں... ایک منٹ روکو"
"کیا ہوا؟"
"وہ تم نے کہا تھا نا جو اسکے جواب میں مجھے بھی رومینٹک انداذ میں کہنا پڑے گا نا"
"تو؟"
"تو یہ کہ...سنیں کا جواب ہے...(ٹھہر کر).......جی کہیں"
"تم نا..."
"(کھلکھلا کر ہنسنا)"
"اب میں کیا کہوں. تمہاری یہی باتیں تو مجھے گرویدہ بنا دیتی ہیں"
"اب تم شروع مت ہو جانا"
"اوکے جی"
"تو کہیں نا"
"ہائے ربا!"
"(کھلکھلانا)"



(تیسرا منظر)
"اتفاق نہیں ہونا چاہیے"
"ذرا بھی نہیں؟"
"جی"
"بالکل ذرا بھی نہیں؟"
"عدنان!"
"اچھا یار"
"سو سوئیٹ"