(AABDBSDC-Repair)-لاہور والا قلعہ

Aug 6, 2010 at 7:57 PM

یہ کہانی ایک بزرگ نے سنائی تھی. فاروق نام تھا ان کا. بزرگ کہتے ہیں کہ بہت سال پہلے لاہور میں آج والا قلعہ نہیں تھا. ان دنوں شہر بھی بہت چھوٹا ہوا کرتا تھا اور تقریبا سارا شہر ہی دریا راوی پر پاس آباد تھا. مغل بادشاہ ہمایوں کی ان دنوں افغان حکمران شیر شاہ کے ساتھ جنگ ہوئی اور ہمایوں وہ جنگ ہار گیا. اس شکست کے وقت مغل دارالحکومت دہلی تھا. شیر شاہ کا راج دہلی پر قائم تو ہو گیا. مگر وہ ہمایوں کو قتل نہ کر سکا. ان دنوں کچھ لوگ ایسے موجود تھے جو ہمایوں کے وفادار ثابت ہوئے اور انہوں نے شکست زدہ بادشاہ کو سندھ تک فرار ہونے کی نہ صرف مدد کی بلکہ کامیابی سے اہک ایسے شخص کے گھر چھپا دیا جس کا تعلق لاہور سے تھا لیکن وہ سندھ میں آباد ہو چکا تھا. انہی دنوں ہمایوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا. ہمایوں نے اسکا نام اکبر رکھا. وقت گزرتا گیا اور ہمایوں ایک وفادار فوج اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوا. اس نے دہلی پر ایک کامیاب حملہ کیا اور شیر شاہ کو افغانستاں بھگا دیا. اکبر بڑا ہوتا گیا. وقت نے ہمایوں کو بوڑھا کر دیا. تاریخ گواہ ہے کہ بادشاہ اکبر کو فنون سے لگاؤ تھا. اسی لیے فن تعمیر ہو یا موسیقی اکبر کے دور میں ان فنون نے بے مثال ترقی کی. اکبر کو وہ شخص یاد تھا جس نے اسکے باپ ہمایوں کو پناہ دی تھی. شاہی خزانے سے اسے تحائف بھجوانے کے ساتھ ساتھ اکبر نے اسے واپس لاہور آباد کیا. اتنا ہی نہیں اکبر نے مغل دارالحکومت دہلی سے بدل کر لاہور منتقل کر دیا. لاہور کے بھاگ کھل گئے. موسیقی، تعلیم اور عمارات نے ترقی پائی. اکبر کو تب بھی لگتا تھا کہ کچھ کمی ہے لاہور کے حسن میں. اور پھر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اس نے لاہور والا قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا. اس پر بہت پیسہ اور وقت لگا. سالوں کے انتظار کے بعد قلعہ بن ہی گیا. روایت ہے کہ ایک بار ایک پٹھان لاہور کا سفر کر نے آیا. ابھی شہر سے دور ہی تھا کہ اسکی نظر قلعے پر پڑی. جب شہر پہنچا تو دربار میں حاضر ہوا جو قلعہ میں ہی تھا. اس نے بیان کیا کہ اس نے ایسی عمارت کبھی اپنے تصور میں بھی نہیں دیکھی. یہ تعریف سن کر اکبر کو یقیں ہوا کہ وہ کمی جو لاہور کے حسن میں تھی وہ پوری ہو گئی. اکبر کا دور مغل حکومت اور بر صغیر کا بہترین دور تھا. اکبر کی جگہ اسکے بیٹے جہانگیرنے لی. بے پناہ دولت اور سکون نے جہانگیر کی عادتیں خراب کر دی تھیں. اور ناچ گانا ہی اسکی زندگی تھی. اس نے قلعے میں اپنی خاص خواب گاہ بنوائی جہاں اسکی من پسند کنیزائیں ناچتی تھیں. اکبر بہت بوڑھا ہو چکا تھا. اس نے جہانگیر کی شادی کروانے کی بہت کوشش کی مگر شہزادے کا دل کسی لڑکی پر آتا ہی نہیں تھا. اور آتا بھی کیوں. حسن تو اسے ہر رات شراب کے ساتھ مل جاتا. اکبر نے بیٹے کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے ترکیب استعمال کی. اس نے کچھ وفادار لوگوں کو یہ افواہ پھیلانے کو کہا کہ لاہور پر دشمن حملہ کرنے والا ہے اور قلعے کو خطرہ ہے. جب جہانگیر کو یہ افواہ سننے کو ملی تو اس نے ہوشیار رہنا شروع کر دیا. نہ شراب. نہ شباب. بس ہر وقت ہونے والے حملے کا ڈر اسے پریشان رکھتا. ایک ماہ تک ایسا کچھ نہیں ہوا. لیکن اس ایک ماہ کی پریشانی اور بے سکونی نے شہزادے کو ذیادہ نہیں مگر کسی حد تک سدھار دیا. بہت دنوں تک جس نغمہ و سرور کی محفل کو ترس گیا تھا وہ پھر سے سج اٹھی. نئی کنیزائیں دل کو موہ لینے والے روپ میں بادشاہ کے سامنے آئیں. ان میں ایک کنیز ایسی تھی جس نے ایک ہی نظر میں بادشاہ کے دل کے قلعہ کو گرا دیا. محفل ختم ہونے کے بعد اس رات بادشاہ جہانگیر کو سکون کی نیند نہیں آئی. اگلی صبح اکبر بادشاہ نے جب یہ دریافت کیا کہ لاہور والے قلعے کے کیا حالات ہیں تو جہانگیر بس اتنا ہی کہے سکا کہ لاہور والا قلعہ تو کل رات ہی گر گیا. چنانچہ یہ کہا جاتا ہے کہ جب بھی کوئی حسینہ کسی مرد کے دل پر اپنی اداؤں سے حملہ کرتی ہے تو گویا وہ اسکے لاہور والے قلعے پر حملہ کرتی ہے. آخر دل کسی قلعے سے کم تھوڑا ہی ہے اور دل کا مالک جیسے قلعے کا بادشاہ. جس دن قلعہ گرا اس دن دل بھی مبتلاۓ عشق.