(AABDBSDC-Repair)-بدتمیز

Jun 27, 2010 at 4:39 PM
الفاظ میں بھی کتنی طاقت ہوتی ہے. انسان کو بلندیوں پر بٹھا دیتے ہیں الفاظ. اور کبھی کبھی ان الفاظ کی وجہ سے خود کی نظر سے گر جاتا ہے.‎ ‎جیسے کچھ اچھے الفاظ نہیں بھولتے، ویسے برے بھی دل پر کندہ ہو جاتے ہیں.‎ ‎بچپن کی ڈانٹ سے جوانی کے جوشیلے الفاظ تک سب یاد ہے. ہر لفظ یادوں کا دریا ہے. ہر لفظ سے کوئی نہ کوئی واقعہ جڑا ہوا ہے. اور زندگی ان چھوٹے چھوٹے واقعات سے مل کر ہی بنتی ہے.‎بچپن میں ٹیچرز سے ڈانٹ پڑتی تھی تب یہ لفظ بڑا کڑوا لگتا تھا. دل نہیں کرتا تھا کہ کوئی کبھی یہ لفظ سنائے. وقت کے ساتھ ساتھ اور برے برے لفظ علم میں آتے گئے.‎کبھی لڑائی اور تکرار کی نوبت آئی تو بھی یہ لفظ استعمال نہیں ہوا. اس سے کہیں شدید لفظ استعمال ہوئے. مگر بزرگوں سے ڈانٹ پڑتے ہوئے اس کا خود پر استعمال برداشت کرنا پڑا.‎ ‎ اتنے سال بعد کوئی ایک شخص پسند آیا. بہت پسند آیا. دل میں ہزاروں باتیں اس سے کرنے کو جاگ آٹھیں. اور وقت لگا ہمت کو اکھٹا کرنے میں. پھر ایک دن چھلانگ لگا ہی دی.اور وہ شخص مسکرا دیا. دن گزرتے گئے اور چاہت کے رنگ شدید ہوتے چلے گئے. پھر بھی کچھ حدیں ایسے تھیں جنہیں ابھی بھی عبور نہیں کیا تھا. اور نہ ہی جلد عبور کرنے کے ادارے تھے.میں نے کچھ کہہ دیا جو اس شخص کو سننے کی توقع نہیں تھی. کم از کم اتنی جلدی سننے کی توقع نہیں تھی. اس نے کہا
: "ہاۓ ربا!"
اور میں ہنس دیا. اور وہ شرما دیا. ساتھ یہ بھی کہہ دیا
"عامر! تم کتنے بدتمیز ہو"
اور میرا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بھاگ گیا. پہلی بار ایک ایسے لفظ سے عشق سا ہو گیا جسے کبھی سننا بھی پسند نہیں تھا.‎