(AABDBSDC-Repair)-کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

Nov 13, 2009 at 10:25 PM

I met a girl some days back...She didn't believe in any thing. I asked her some questions and she said
''Aamir! Suno...I don't believe in luck. I don't believe in magic. I don't believe in charms. I don't believe in love."
At that moment I wished she had believed. This is a poem in her honor, I hope one day she believes.


کہ بساط جان پہ عذاب اترتے ہیں کس طرح
شب و روز دل پہ عتاب اترتے ہیں کس طرح


یہ جو لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پس دوستاں ... تو یہ کون ہیں
یہ جو روگ سے ہیں چھپے ہوئے پس جسم و جان تو... یہ کس لیے

یہ جو کان ہیں میرے آہٹوں پہ لگے ہوئے... تو یہ کیوں بھلا
یہ جو ہونٹ ہیں صف دوستاں میں سلے ہوئے...تو یہ کس لیے

یہ جو اضطراب رچا ہوا ہے وجود میں... تو یہ کیوں بھلا
یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہے جمود میں... تو یہ کس لیے

یہ جو دل میں درد چھڑا ہوا ہے لطیف سا... تو یہ کب سے ہے
یہ جو پتلیوں میں ہے عکس کوئی خفیف سا... تو یہ کب سے ہے

یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی ہے جمی ہوئی... تو یہ کس لیے
یہ جو دوستوں میں نئی نئی ہے کمی کوئی... تو یہ کیوں بھل
ا

یہ جو لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں فضول میں... انہیں کیا پتہ... انہیں کیا خبر
کسی راہ کے کسی موڑ پر جو ذرا انہیں... کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے