دو چیزیں

December 12, 2017

دن سے دو چیزیں نکل جائیں تو دن زندگی سے تو کٹ جاتا ہے لیکن آپ اسے جیتے نہیں. یہ میرا ماننا ہے . ضروری نہیں کہ ہر کوئی اس سے متففق ہو. یہ انسانی اور جمہوری حق ہے کہ سب ایک نظریے کے نہیں ہو سکتے. پہلا یہ کہ آپ صحت مند ہوتے ہوئے ، ہوش اور خرد رکھتے ہوئے طلوع ہوتے سورج کو نہ دیکھیں. اس سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ سورج کو دیکھ کر اپنی آنکھیں برباد کر لیں لیکن صبح کے وقت کی کشش صرف وہی جانتا ہے جس نے اس کی عادت بنا لی ہو. ابّا جی کی سختی کی وجہ سے مجھے صبح اٹھنے کی عادت مل گئی اور بچپن میں سخت تکلیف دہ لمحہ اب میرے لئے دن کا سب سے پسندیدہ لمحہ بن گیا. کوئی ایسا دن جب میں صبح کو نہ پا سکون مجھے یوں گمان دیتا ہے کہ میری زندگی کا دن تو کٹ گیا لیکن میں نے وہ جیا نہیں. دوسری چیز یہ کہ ہوش سمبھالنے سے بڑھاپے تک یا جب تک عناصر کا عدل بکھر نہیں جاتا تب تک انسان کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے، یہی اس کی زندگی کی کہانی ہے یہی اس کے تجربات ہیں. تو وہ دن جب آپ کچھ نیا نہیں سیکھتے وہ دن بھی آپ زندگی سے بنا جئے کٹوا لیتے ہیں . اب تو انسان خوش نصیب ہے کہ بہت کچھ سیکھ سکتا ہے. وہ بھی جو اسے نہیں سیکھنا چاہیے