Dushman Mehboob

December 8th, 2017
نہ محبوب سونے دیتا ہے نہ ہی دشمن. اور کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ دونوں کو جان سے مار دیں. اب ہماری نیند بھی تو اتنی ہی قیمتی ہے جتنی ان دونوں کی. بر صغیر کی کوئی خاتون بشمول اماں کے کبھی بھی اس خیال کو تسلیم نہیں کریں گی کہ محبوب اور دشمن دونوں تعداد میں ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں. میرے تجربات نے جو سبق سکھایا اسی کی درس ایمانداری سے آگے پہنچا رہا ہوں. اور اس پر میں عورت بھی نہیں. اس زندگی میں دشمن بھی ایک سے زیادہ رہے اور محبوب بھی. بہت کچھ سکھایا انہوں نے دانستہ ہی سہی لیکن یہ حقیقت قائم ہے.میری کسی بھی دور کے ہمخیال نوجوان کے لئے ایک نصیحت ہے کہ دو دشمنان جان یا دو محبوب جگر کو کبھی ایک دوسرے کے قریب نہیں ہونے دینا. ورنہ جیتے جی جاگتی آنکھوں سے قیامت دیکھو گے اور اس سے گزرنا بھی لازمی ہو گا.