Diaries

December 11th, 2017
سکول میں پہلی بار ڈائری لکھنا شروع کیا تھا. پھر گھر شفٹ کرتے ہوئے وہ ڈائری کھو گئی اور میں نے دوبارہ جسارت نہیں کی. لیکن میٹرک میں آنے کے بعد یہ خیال دوبارہ آیا کہ کچھ نا کچھ لکھتے رہنا چاہیے. تو میں نے پھر سے ادھر ادھر کی باتیں لکھنا شروع کر دیں. اب میری زندگی کسی اداکار یا سیاستداں جیسی تو تب بھی نہیں تھی اور نہ ہی اب ہے. اتنی سست اور عام سی زندگی کے بارے میں لکھتا بھی تو کیا لکھتا .تو اگر سکول میں کچھ نیا سیکھنے کو ملتا تو اس کو لکھ لیتا ورنہ صفحے خالی ہی رہتے.روز صبح گھر سے نکلتے ہوئے ایک لڑکی دکھتی. جب میں کالج میں آ گیا تب بھی اس کے جوتے کالے رہے تو مجھے پتا چلا کہ وہ مجھ سے چھوٹی ہے. نقاب نہیں کرتی تھی. بہت عام سا چہرہ تھا اس کا. نقش بھی اتنے غیر معمولی کہ آسانی سے یاد بھی نہ ہوں. لیکن روز اسی وقت وہ بھی اپنے سکول کو روانہ ہو جاتی اور میں بھی سکول کا رخ کرتا. سکول میں سختی کے باوجود اس کے ہاتھ میں کسی نہ کسی رنگ کا دوپٹہ ہوتا. مجھے یہ تو پتا تھا کہ سکول میں یونیفارم کے علاوہ کوئی اور رنگ استمعال کرنے کی اجازت نہیں لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی رنگ ضرور ہوتا. میرے لیے یہ دن کا ایک ایسا لمحہ ہوتا جس کا مشاہدہ میں ضرور کرتا اور رات سونے سے پہلے یہ بیکار سی انفارمیشن میری ڈائری میں پہنچ جاتی. اب ایک دن وہ ڈائری اماں کے ہاتھ لگ گئی. انھیں لگا کہ میں جس لڑکی کا ذکر اتنی باقائدگی سے لکھتا آیا ہوں یہ سکول کی انتہائی نقصان دہ محبّت کے اثار ہیں تو ایک ڈانٹ کے بعد یہ تیسری ڈائری بھی میری زندگی سے باہر چلی گئی. میں نے لکھنے سے تو توبہ نہیں کی لیکن ہر تحریر کو اماں کے پہنچ سے دور رکھنے کی قسم ضرور کھا لی. پھر سکول اور کالج میں جو ہوا وہ ذہن کے کاغذ پر ہی رہا. زندگی لاہور لے گئی ایک بینک اکاؤنٹ کھلوانے کی نوبت آئی تو ساتھ میں میں نے لاکر کی درخواست دے دی اور اگلے دن تیس ایک جیسے سائز کی خالی صفحات والی ڈائریاں لے آیا اور روز کچھ نہ کچھ لکھتا رہا. دن گزرتے گئے اور ایک کے بعد ایک ڈائری لاکر میں پہنچتی گئی . پھر لاہور چھوڑنا پڑا تو وہ سب لاکر سے نکل کر اپنے ساتھ لے آیا. ہر وقت یہ ڈر رہتا کہ یہ کہیں پہلے کی ڈائری کی طرح یہ سب بھی مجھسے جدا نہ ہو جائیں. روز خود سے ارادہ کرتا کہ ان سب کو کسی ماڈرن حالت میں انٹرنیٹ پر کہیں محفوظ کر لوں گا. ایک اکیلا میں اور اتنے خلفشار انتشار زندگی تو وہ کل کچھ زیادہ دور چلا گیا . اب آہستہ آہستہ پرانے لکھی ہوئی باتیں یہاں لگانا شروع کر دی ہیں. اب ایک دن میں تو سب کچھ یہاں چپکا دینا ممکن نہیں. ان میں کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جنھیں دوستوں اور محبّتوں سے چھپانا لازمی ہے . وہ ہر جذبہ نہ سمجھے تھے اور نہ ہی سمجھیں گے. لیکن ہر صفحہ پلٹتے ہوئے میں وقت میں پیچھے چلا جاتا ہوں جب میں زیادہ جوان اور زیادہ بیوقوف تھا اور وہ وقت جس سے میں اب بھی جڑا ہوا ہوں.