١٠٠ لفظوں کا چور

January 3rd, 2016 / 11:38 PM

بہت دنوں کے بعد آج لبرٹی بکس  گیا ایک کتاب کے بارے میں ٹوئٹر پر کچھ پڑھنے کو ملا تو میں نے سوچا کیوں نہ کسی اور کے کہے پر یقین کرنے سے یہ بہتر نہیں کہ میں خود اس کتاب کو پڑھ کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کروں کتاب تو میں لے آیا لیکن افسوس یہ بھی کسی کا اپنا ایڈ یا نہیں اس سے پہلے بھی جیسے لوگ ہیں کہ کسی اور کا خیال چوری کرکے اپنے نام سے شائع کر دیتے ہیں بس اسی طرح یہ بھی خود ساختہ صحافی ہیں جو کسی گورے کا سالوں پرانا خیال چوری کر کے اپنے نام سے چھپواتے رہے ہیں اور ان کی تحریروں سے ان کی ذہنی جھکاؤ سے بھری سوچ نظر آتی ہے . کسی ایک فرقے میں پیدا ہونے سے دوسرے سب خراب نہیں ہو جاتے. لیکن یہ ہر وقت ایک طرح کا ذہن لیے اپنے خیالات دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں. انسان اپنے قبیلے، اپنی زبان، اپنے ملک کا ترجمان ہوتا ہے. جس فرقے سے ان کا تعلق ہے میرے کچھ بہترین دوست اس سے ہیں. لیکن یہ حضرت خود کے ساتھ باقیوں پر بھی داغ لگانے میں مشغول رہتے ہیں. ان کی کہانیاں پڑھی. کچھ اچھی تھیں. باقی میرا پیسہ برباد ہوا. ابھی ایمیزون سے وہ اصلی کتاب آرڈر کی ہے جس سے ان حضرت نے یہ خیال چوری کیا ہے. بیشک وہ پیسا بھی برباد ہو لیکن اصل کی خوبصورتی چور کو مزید بدصورت بنا دیتی ہے .


 

11_lafz_01.jpg